’تیز ہوا کی وجہ‘ سے زائرین کی کشتیاں ٹکرا گئیں، 16 ہلاک

SHARE

’تیز ہوا کی وجہ‘ سے زائرین کی کشتیاں ٹکرا گئیں، 16 ہلاک

حادثے کے بعد طبی امداد کے مناظر

Image caption

اب تک 14 لاشیں نکالی گئی ہیں اور 20 سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے

پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقے میں دو کشتیاں ٹکرانے کے باعث 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد کی تلاش جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اب تک 16 لاشیں نکالی گئی ہیں اور 20 سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے۔

انھوں نے وزیر اعلیٰ کو رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو کشتیاں جن میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے میھو پٹائی کی مزار پر جا رہے تھے کہ تیز ہوا کے باعث کشتیاں آپس میں ٹکرا گئیں اور یہ واقعہ پیش آیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ایک میلے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ میرپور ساکرو کی علاقے بوھارا کے قریب جمعرات کی دوپہر کو یہ حادثہ پیش آیا ہے۔

شیخ زید ہسپتال میرپور ساکرو کے ڈاکٹر گل میمن نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ ان کے پاس 16 لاشیں اور 35 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے 30 سے زیادہ کو کراچی اور ٹھٹھہ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں۔


ٹھٹھہ کی درگاہیں

تاریخ نویس گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ ٹھٹھہ میں درجن کے قریب درگاہیں جزائر پر موجود ہیں، جن میں مشہور دریا پیر، نوحو پوٹو اور ابراہیم شاہ واڑی وارو کی درگاہیں ہیں جہاں لوگ کشتیوں میں زیارت کے لیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سمندر میں ماہی گیری کا کام خطرے والا سمجھا جاتا ہے تو ماہی گیر راستے میں آنے والے مزارت پر خیریت سے واپسی کی دعا مانگتے ہوئے جاتے ہیں اور واپسی پر وہاں خیرات بھی کرتے ہیں۔

مقامی صحافی رحمت اللہ چھٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ زائرین میھو پٹائی نامی درگاہ کی زیارت پر جا رہے تھے۔

میھو پٹائی درگاہ جائے وقوع سے 15 کلومیٹر دور سمندر میں گھرے ایک جزیرے پر واقع ہے۔ اس درگاہ پر سالانہ میلہ لگتا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے زائرین جن میں جوکیا، میمن، پنہور کمیونٹی کے لوگ شامل ہیں کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے تھے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کمشنر حیدرآباد کو ریسکیو کا کام تیز کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ریسکیو کا کام مکمل کیا جائے۔ ڈی سی ٹھٹھہ کو ریسکیو آپریش کی خود نگرانی کرنے کی بھی ہدایات کی گئی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ٹھٹھہ سمیت قریبی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے ڈاکٹرز سمیت دیگر طبی عملے کی حاضری اور ادویات کا انتظام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Image caption

مچھلی کے جال سے ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکلانے کی کوشش کی جا رہی ہے

TAGS:

TheMeanBlog

Pakistani News

Urdu News

Latest News

Leave a Reply