شیطانی فیصلہ

SHARE

شیطانی فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کردیاہے۔ اس فیصلے کے اپنے سیاسی محرکات ہیں اور آنے والوں دنوں میں اس کے بہت سے نتائج امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پرمرتب ہوں گے۔
سیاسی پہلوسے قطع نظر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کو دیکھنے کا ایک دوسرا زاویہ بھی ہے۔یہ وہ زاویہ ہے جس پر ہم نے اپنی کتاب ’’آخری جنگ‘‘ میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اس زاویے کی رو سے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایک شیطانی فیصلہ ہے۔اس قدم سے اسرائیل یا امریکہ کو اتنا فائدہ نہیں ہوگا جتنا شیطان اور اس کے ایجنڈے کو ہوگا۔ شیطان کا ایجنڈا نفرت ہے۔ اس کا ایجنڈا اسلام کی دعوت کا راستہ روکنا ہے۔ اس کا ایجنڈا اسلام اور اور غیر مسلموں کے درمیان فاصلہ بڑھانا ہے۔ یہ ساری چیزیں اس فیصلے سے فوری طور پر حاصل ہوجائیں گے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
اس سے قبل مسلمانوں کے بعض انتہا پسندوں گروپوں کی دہشت گردی کی وجہ سے غیر مسلم اسلام سے پہلے ہی دور ہوچکے ہیں۔ مغرب میں اسلام سے نفرت بڑھ رہی ہے۔اب اس فیصلے کے نتیجے میں مسلمانوں میں غیر مسلموں کے خلاف نفرت اور غصہ بڑھے گا۔ یہ دو طرفہ نفرت ہی شیطان کا اصل مقصود ہے۔ اس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے گا اورغیر مسلم اسلام سے مزید دور ہوں گے۔
اس شیطانی فیصلے کو غیر موثر کرنے کا طریقہ نفرت نہیں بلکہ بہتر سیاسی حکمت عملی ہے۔ اس فیصلے پر نہ صرف عالمی عامہ بلکہ خود امریکہ اور اسرائیل کے بہت سے حلقے بھی خوش نہیں۔ایسے میں نفرت کے بجائے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرکے امریکہ کو تنہا کرنا ایک زیادہ بہتر حکمت عملی ہے۔ نفرت کے فروغ سے مسلمانوں کوتو کچھ نہیں ملے گا، ہاں شیطان کا ایجنڈا ضرور آگے بڑھے گا۔
اس کے علاوہ ایسا احتجاج جو اپنے ملک کے شہریوں کو اذیت دے، راستے بند کردے، توڑ پھوڑ کرے، یہ بھی انتہائی غیر اخلاقی اور غیر دینی طریقہ ہے۔ صرف وہی احتجاج درست ہے جو پرامن ہو اور کسی شہری کے لیے باعث ایذا نہ ہو۔ اس کا خیال رکھنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے.

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

TAGS:

TheMeanBlog

Pakistani News

Urdu News

Latest News

Leave a Reply