فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز…قسط نمبر 294

SHARE

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز…قسط نمبر 294

مشرقی پاکستان میں اُس زمانے میں انڈین فلمیں درآمد ہوا کرتی تھیں مگر ایک محدود تعداد میں۔ یہ بھی ستم ظریفی ہی تھی کہ ایک ہی ملک کے دو حصّوں اور دو صوبوں کے لئے قانون الگ الگ تھا۔ مغربی پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندیاں تھیں مگر اِکّا دُکّا بھارتی فلمیں مشرقی پاکستان میں درآمد کیں جاتی تھیں اور بہت کامیاب ہوتی تھیں۔ اسی طرح ڈھاکہ میں کلکتہ کی فلمیں بھی نمائش کے لئے پیش کی جاتی تھیں اور بے حد مقبولیت حاصل کرتی تھیں۔
ہم 1960ء کے اوّلین حصّے میں ڈھاکہ گئے تو وہاں ایک اردو (جسے وہ ہندی کہتے تھے) فلم اور ایک بنگلہ فلم سینما گھروں میں چل رہی تھی اور خوب رش لے رہی تھی۔ بنگلہ فلم کے ہدایت کار شیام بینگل تھے۔ ہم سے ڈھاکہ میں کئی بنگالی دوستوں نے ان کی بہت تعریف کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ شیام بینیگل دراصل سَتیہ جیت رے سے بھی زیادہ بلند پایہ فلم ساز اور ہدایت کار ہیں۔ انہیں مقبولیت اور داد بھی خوب ملی مگر ستیہ جیت رے کو بین الاقوامی حلقوں میں جو عظمت حاصل تھی وہ شیام بینگل کے حصّے میں نہیں آئی۔ ان کی بنائی ہوئی فلم جو ہم نے ڈھاکہ کے ایک سینما میں دیکھی تھی، انڈین بنگال میں بھی بے حد مقبول ہوئی تھی اور ڈھاکہ میں اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب ہم نے یہ فلم دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو یہ پچیسویں ہفتے میں چل ر ہی تھی مگر تمام شو فُل جا رہے تھے اور ٹکٹ بہت مشکل سے دستیاب ہوتا تھا۔ ظاہر ہے کہ بلیک مارکیٹ کرنے والوں کے خوب مزے تھے۔ اس کا نام ’’ایکے میکے تارا‘‘ یا اسی قسم کا تھا۔ جو بھی تھا مگر اس کے آخر میں لفظ ’’تارا‘‘ ضرور آتا تھا ۔ہمارے لئے بطور خاص اہتمام کیا گیا۔ ہم نے اس سے پہلے کوئی بنگلہ فلم نہیں دیکھی تھی اس کی مقبولیت کی داستانیں سنیں تو سوچا کہ ایک سُپرہٹ بنگلہ فلم دیکھنے کا تجربہ بھی ضرور کر لینا چاہیے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز…قسط نمبر 293  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
یہ سینما‘ جہاں اس فلم کی نمائش جاری تھی‘ ڈھاکہ کا بہت اچھا سینما گھر تھا۔ سب سے پہلے تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک ہٹ فلم کے سینما پر بھی وہ دھکّم پیل‘ دھینگا مُشتی ا ور ہنگامہ نہیں تھا جو ہمارے مغربی پاکستان‘ خصوصاً لاہور کے سینماؤں کا طرۂ امتیاز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ لوگ بڑے سکون سے پیدل‘ سائیکلوں پر یا بہت زیادہ متمّول گھرانے بائیسکل رکشا پر سوار ہو کر جوق در جوق آ رہے تھے۔ خاموشی سے ٹکٹ خریدتے اور اطمینان سے اندر جا کر بیٹھ جاتے۔ نہ شور و غل‘ نہ ہنگامہ آرائی‘ نہ آوازیں اور سیٹیاں۔ فلم شروع ہوئی تو دیکھا کہ یہ ایک انتہائی غریب گھرانے کی کہانی تھی۔ لوئر مڈل کلاس کا ہیرو‘ نہایت سادہ‘ آنکھوں پر عینک لگائے‘ گلیمر نام کو نہیں ‘ کرتہ دھوتی اورچپّل پہنے ہوئے ۔۔۔اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ شاید اس کے سارے خاندان میں کبھی کسی نے رومان نہ کیا ہوگا۔ ان صاحب کا رومان بھی نہایت سادہ او ر شریفانہ تھا۔ رومانی مناظر ایسے تھے جیسے کاروباری گفتگو ہو رہی ہو۔
ہماری سمجھ میں مکالمے تو نہیں آئے مگر کہانی سے بات چیت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ ہیروئن بھی سادہ سی تھی۔ فیشن زدہ ملبوسات اور میک اپ سے عاری۔ سادہ سی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ اس فلم میں گانے برائے نام ہی تھے۔ نہ کسی کامیڈین نے زبردستی ہنسانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود سارے ہال میں سنّاٹا چھاپا ہوا تھا۔ اچھّے فقرے پر لوگ ہنس پڑتے اورپھر سنجیدگی سے فلم دیکھنے میں مصروف ہو جاتے۔ یہ دراصل ملازمت کرنے والی ایک لڑکی کی کہانی تھی جو اپنے ماں باپ‘ چھوٹی بہن اور چھوٹے بھائی کی کفالت کرتی تھی۔ باپ ریٹائرڈ ہو چکا تھا۔ جوان بہن زیر تعلیم تھی۔ جوان بھائی نکمّا تھا۔ اسے بس موسیقی کا شوق تھا۔ سارے گھر کا بوجھ ہیروئن کے کندھوں پر تھا۔
ہیرو صاحب بھی کسی دفتر میں معمولی سے ملازم یا کلرک تھے۔ وہ ہیروئن پر زور دے رہے تھے کہ اب انہیں شادی کر لینی چاہیے مگر اس کا کہنا تھا کہ پھر میرے گھر کے اخراجات کون سنبھالے گا؟ اس اثناء میں ایک اور گڑبڑ یہ ہوگئی کہ ہیرو صاحب کا گھرمیں آنا جانا تھا اس لئے چھوٹی بہن نے بھی ان کو پسند کر لیا۔ بڑی بہن نے یہ دیکھا تو اپنے پیار سے کنارہ کش ہوگئی اور بہن کی خوشنودی کی خاطر ہیرو سے کہا کہ تم اس سے شادی کر لو۔ وہ تمہیں پسند کرتی ہے۔ میں تو مجبوریوں کی بنا پر شادی کر ہی نہیں سکتی۔
اس قسم کی سنجیدہ کہانیاں پاکستانی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔انہیں حیرانی ہوگی کہ بنگالیوں کا فلمی ٹیسٹ تو بہت برا ہے۔وہ کیسے اسطرح کی بور فلمیں دیکھ لیتے ہیں۔ اس فلم میں اداکاری اور ہدایت کاری کا معیار بہت اعلیٰ تھا۔ ساری کہانی بڑی سادگی سے‘ حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کی گئی تھی۔ نہ بھاری بھرکم ڈرامائی مکالمے تھے‘ نہ اچھلتے کودتے رومانی مناظر‘ مگر تماشائیوں پر سحر سا طاری تھا۔
ہمیں بھی فلم بہت اچھّی لگی۔ یہ بات الگ ہے کہ اگر اردو میں ہوتی تو ہمارے ہاں ایک ہفتے بھی نہ چلتی۔ ہم نے اپنے بنگالی دوست سے پوچھا’’بھئی۔ جو تماشائی اس قدر سنجیدہ اور خیال افروز فلمیں دیکھتے ہیں وہ ہماری کمرشل فلمیں کیسے پسند کرتے ہیں؟ ‘‘

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
وہ بولے ’’ان کا معیار الگ الگ ہے۔ بنگلہ میں ایسی ہی حقیقت پسندانہ فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں مگر اردو میں اچھل کود، ناچ گانا اور رومانس پسند کرتے ہیں‘‘ کچھ عرصے بعد بنگالی تماشائیوں کا معیار بھی تبدیل ہوگیا اور اب تو وہ بنگلہ زبان میں بھی ایکشن‘ مار پیٹ‘ ہنگامہ، ڈراما اور اُچھل کود ہی پسند کرتے ہیں لیکن تیس چالیس سال پہلے حالات بالکل مختلف تھے۔
مشرقی پاکستان میں بنائی ہوئی بنگلہ فلمیں بھی اس وقت نہایت سادہ اور شائستہ ہوا کرتی تھیں اور ایسی ہی فلمیں مقبول بھی ہوتی تھیں۔ فلم ’’جاگو ہوا سویرا‘‘ میں کام کرنے والے ایک اداکار انیس کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا تھا۔ ان صاحب کا اصل نام خان عطا الرحمان تھا۔ انہوں نے بنگلہ فلموں میں اسی نام سے کام کیا۔ ان کی بنگلہ زبان میں بنائی ہوئی فلم ’’سات بھائی چمپا‘‘ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے کہ یہ ایک لڑکی چمپا کی کہانی تھی جو سات بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ سادہ سی یہ فلم سُپرہٹ ہوگئی تھی۔ ان دنوں مشرقی پاکستان میں کوئی ڈھنگ کا سٹوڈیو نہ تھا۔ نہ کوئی گلوکار اور موسیقار تھا۔ نہ ہی سازندے تھے۔ تکنیکی اعتبار سے بھی کوئی سہولت نہ تھی اس لیے وہاں کے فلم ساز ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مغربی پاکستان، خصوصاً لاہور آیا کرتے تھے۔ کافی عرصے تک ڈھاکا کی فلموں کی موسیقی کی صدا بندی لاہور میں ہوتی رہی۔ خان عطاالرحمن جنہیں بعد میں مشرقی پاکستان میں بڑی شہرت اور عزّت حاصل ہوئی، اپنی فلم کے گانوں کی ریکارڈنگ اور بعد میں فلم کی پرنٹنگ کے سلسلے میں لاہور آئے تو ان سے کافی ملاقات رہی، جو بعد میں گہری دوستی میں بدل گئی تھی۔ احتشام نے بھی فلم ساز اور ہدایت کار کے طور پر بہت نام پیدا کیا۔ وہ بھی کافی عرصہ لاہور اور کراچی میں رہے اور فلمسازی کے رموز سے آگاہی حاصل کرتے رہے۔ قریبی حلقوں میں وہ کیپٹن رحمان یا کیپٹن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ایک وجۂ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ سپر سٹار ندیم کے خسر ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی مستفیض نے بھی کئی کامیاب اور عمدہ فلمیں بنائیں اور شہرت حاصل کی۔
(جاری ہے)

TAGS:

TheMeanBlog

Pakistani News

Urdu News

Latest News

Leave a Reply