Latest Pakistan News

لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی

0

لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی

سموگتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قائم لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس منصور علی شاہ نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی ہے کہ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر ویب سائٹ پر ڈالا جائے۔

منگل کو سماعت شیراز زکا ایڈوکیٹ کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواست پر کی گئی تھی۔ جس کے دوران چیف جسٹسں منصور علی شاہ نے کہا کہ اس حوالے سے حکم بدھ کو جاری کیا جائے گا۔

عدالت کے حکم پر صوبائی محکمہ ماحولیات نے قلیل مدتی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

یہ بھی پڑھیے

سموگ کے معاملے پر پنجاب حکومت کا انڈیا سے رابطہ

دلی سموگ: خاموش قاتل جو نظر آتا ہے نہ نظر آنے دیتا ہے

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق محکمہ ماحولیات نے بتایا کہ اگر پی ایم کی سطح دو عشاریہ پانچ یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس 200 سے 300 ہوا تو انڈسٹریل یونٹس بندہو کیے جائیں گے۔

اسی سطح کے 300 سے 400 ہونے پر پرائمری سکول بند ہوں گے اور تعمیراتی کام بھی روک دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

پی ایم کی سطح 400 سے 500 ہونے پر تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے اور سب کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا جائے گا، اور پارک بھی بند ہوں گے۔ اس دوران چہرے پر ماسک پہننا بھی ضروری ہو گا۔

اگر یہ حد سے تجاوز کر جائے یعنی یہ سطح 500 سے اوپر ہونے پر میڈیکل ایمرجنسی لگ جائے گی اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

عدالت میں منگل کو محکمہ موسمیات، صحت، تعلیم اور ماحولیات کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ پی ایم لیول بارش سے پہلے 300 ہونا چاہیے تھا۔

محکمہ ماحولیات سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے وہ اقدامات بتائیں جو لیول بڑھنے پر خودبخود ہو جائیں گے۔

اس پر سیکریٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی بنا لی ہے۔ سب سے پہلے ایڈوائزری جاری کریں گے۔

چیف جسٹسں نے کہا کہ ہم بنائی گئی پالیسی کو وقتاً فوقتاً مانیٹر کریں گے۔

لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی | TheMeanBlog

You might also like

Leave a Reply