ٹھہرو کہ یہاں شہنشاہ ہند سورہا ۔۔۔ انارکلی کی گہماگہمی میں اسلامی سلطنت قائم کرنے والے قطب الدین ایبک کا یہ مزار آپ سے کچھ کہہ رہا ہے

SHARE

ٹھہرو کہ یہاں شہنشاہ ہند سورہا ۔۔۔ انارکلی کی گہماگہمی میں اسلامی سلطنت قائم کرنے والے قطب الدین ایبک کا یہ مزار آپ سے کچھ کہہ رہا ہے

لاہور(ایس چودھری )لاہور میں جاہ و جلال کے ساتھ ہندوستان پر حکومت کرنے والے دو مسلمان حکمرانوں کی قبریں موجود ہیں جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیاتھا لیکن آج ان کی قبروں سے حسرتناک افسردگی ٹپکتی دیکھی جاسکتی ہے۔شہنشاہ جہانگیر کا مقبرہ تو راوی کے اُس پار شاہدرہ میں واقع ہے اور قطب الدین ایبک کا مقبرہ انارکلی لاہور میں ایستادہ ہے۔انارکلی بازار میں خریدوفروخت کے لئے آنے جانے والے لوگ اچٹتی سی نظر بھی اس مرد مجاہد کے مزار کی جانب نہیں ڈالتے کہ جس نے ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی ،کسی کو توفیق نصیب نہیں ہوتی کہ اس مزار پر رک کر دعاہی کرسکے۔انہیں تو دنیا کی گہماگہمی نے اپنے اسلاف کی قدروقیمت کرنے سے روک رکھا ہے۔
قطب الدین ایبک کون تھا ؟ ذرا جانئے ۔۔۔کہ تیرہویں صدی میں ہندوستان میں دہلی پر اسلامی حکومت کا پرچم لہرانے والے مغلیہ سلطنت کے بانی قطب الدین ایبک خوبصورت مرد نہیں تھے،انکی ایک انگلی بھی ٹوٹی ہوئی تھی،ترکمانستان میں بردہ فروشوں کے ہاتھ لگنے کے بعد انہیں غلاموں کی طرح بیچا جاتارہا۔اور پھر تقدیر ان پر یوں مہربان ہوئی کہ غلام کے طورپر قاضی فخرالدین عبدالعزیز کے پاس پہنچے تو ان سے سلطان شہاب الدین غوری نے کثیر مال کے عوض خرید لیا حالانکہ شکل اور ٹوٹی انگلی کی وجہ سے کوئی ان کی معمولی قیمت ادا کرنے کا روادار نہ تھا ۔لیکن یہ تو سلطان شہاب الدین غوری تھے جن کی نگاہ نے قطب الدین کے اندر کی خوبصورتی کو بھانپ لیا اور آنے والے سالوں میں قطب الدیں ایبک شہاب الدین غوری کے انتہائی معتمد اور وفادار بہادر سپہ سالار کی حیثیت میں قابل تعظیم شخصیت کا درجہ حاصل کرگئے ۔ہندوستان پر حملوں کے دوران انہوں نے بہادری اور وفاداری کی انمٹ مثالیں قائم کیں تو شہاب الدیں غوری نے انہیں اجمیر اور دہلی کا گورنر بنادیا ۔اگلے سال انہوں نے گجرات ،راجپوتانہ سمیت کئی ریاستوں کو فتح کیا تو سلطان شہاب الدین غوری نے قطب الدین کو اپنافرزند قراردے دیا ۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
سلطان غوری کی شہادت کے بعد قطب الدین ایبک نے لاہور میں 1206ء میں اپنی تخت نشینی کا اعلان کردیا۔قطب الدین ایبک نے اسلامی قوانین کا نفاذ کیا ۔امن اور ترقی کے لئے بے پناہ کام کئے ۔ نومبر 1210 ء میں لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے وہ گھوڑے سے گرے اور جاں بحق ہوگئے ۔ان کا مزار ایبک روڈ پر قائم کیا گیا جسے بعد ازاں سکھوں اور انگریزوں نے تباہ و برباد کیا ، اسکی قبر کی بے حرمتی کرتے رہے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی قطب الدین ایبک کا مزار ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور کسی حکمران کو نصیب نہ ہوا کہ وہ اس عظیم مسلم مجاہد کی قبراور مزار کی ازسرنو تعمیر کی سعادت حاصل کرپاتا۔صدر ایوب خان کے دور مین قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری نے جب اس مزار کی کسمپرسی دیکھی تو انہوں نے صدر ایوب خان سے قطب الدین ایبک کے مزار کوتعمیر کرانے کی درخواست کی ۔ قطب الدین ایبک کا مزار موجودہ شکل میں اسی دور میں تعمیر کرایا گیا ۔کبھی آپ انارکلی جائیں تو ایک بار سلطان قطب الدین ایبک کے مزار پر بھی رک جائیں اور اپنے تابناک ماضی کو حسرت سے ضرور دیکھیں۔

TAGS:

TheMeanBlog

Pakistani News

Urdu News

Latest News

Leave a Reply